گنگا اشنان

ثاقب کانپوری

گنگا اشنان

ثاقب کانپوری

MORE BYثاقب کانپوری

    اے بہار گنگ اے سرمایۂ پاکیزگی

    تیری ہستی تشنہ کاموں کے لئے مے خانہ ہے

    درس آموز فنا ہے قطرہ قطرہ آب کا

    یا حبابوں کی زباں پر نعرۂ مستانہ ہے

    تیرے پہلو میں ہے اک دوشیزۂ حسن و جمال

    جس کی تصویر جوانی اک سراپا نور ہے

    موج اک اٹکھیلیوں سے چھیڑ کرتی ہے وہ آنکھ

    جو ازل سے کیف آگیں ہے نشے میں چور ہے

    طالب دیدار کا بہتا ہے دل لہروں کے ساتھ

    معرفت کا ذوق پاتا ہے کنول کے پھول میں

    ہر کلی کی تہہ میں سامان لطافت دیکھ کر

    آب کی چادر میں ہو جاتے ہیں پوشیدہ گناہ

    نور کا پیکر بنا دیں گی لکیریں موج کی

    داغ ظلمت کو مٹا دے گی یہ آبی جلوہ گاہ

    غیر ممکن ہے کہ دل میں روشنی پیدا نہ ہو

    بلبلے پانی کے ہیں انسان میں وحدت کی شمع

    سادھوؤں کے واسطے اپدیش ہے موجوں کا راگ

    ہاتھ میں لے کر کھڑے ہیں دیوتا جنت کی شمع

    تیری موج مضطرب ہے اور دل پر جوش ہے

    یعنی بیتابی میں اس کا مدعا مل جائے گا

    حلقۂ گرداب میں نقش حقیقت دیکھ کر

    غنچۂ گل کی طرح دل کا کنول کھل جائے گا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY