غریبوں کی صدا

محمد دین تاثیر

غریبوں کی صدا

محمد دین تاثیر

MORE BYمحمد دین تاثیر

    غریبوں کی فاقہ کشوں کی صدا ہے

    مرے جا رہے ہیں

    امیروں کے عیشوں کا انبار سر پر

    لدے ہیں زمانے کے افکار سر پر

    زمیندار کاندھے پہ سرکار سر پر

    مرے جا رہے ہیں

    شرابوں کے رسیا امیروں کا کیا ہے

    ہنسے جا رہے ہیں

    غریبوں کی محنت کی دولت چرا کر

    غریبوں کی راحت کی دنیا مٹا کر

    محل اپنے غارت گری سے سجا کر

    ہنسے جا رہے ہیں

    غریبوں نے سمبندہ مل کر کیا ہے

    خوشی بڑھ گئی ہے کہ غم بڑھ رہے ہیں

    نگاہوں سے آگے قدم بڑھ رہے ہیں

    سنبھلنا امیرو کہ ہم بڑھ رہے ہیں

    بڑھے جا رہے ہیں

    مآخذ
    • کتاب : Muntakhab Shahkar Nazmon Ka Album) (Pg. 44)
    • Author : Munavvar Jameel
    • مطبع : Haji Haneef Printer Lahore (2000)
    • اشاعت : 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY