گل فروش

MORE BYنذیر مرزا برلاس

    یہ نازنیں کہ جسے قاصد بہار کہیں

    جواں حسینہ کہ فطرت کا شاہکار کہیں

    پیام آمد فصل بہار دیتی ہے

    جنوں نصیب دلوں کی دعائیں لیتی ہے

    اسے چمن کے ہر اک پھول سے محبت ہے

    اسے بہار کی رعنائیوں سے الفت ہے

    گلوں میں پھرتی ہے یوں جیسے تیتری کوئی

    چمن کی سیر کرے یا حسیں پری کوئی

    جو پھول چنتے ہوئے نغمے گنگناتی ہے

    یہ شاید اپنی جوانی کے گیت گاتی ہے

    شباب نے جو اسے تمکنت سکھا دی ہے

    غریب ہی سہی پھولوں کی شاہزادی ہے

    جہان والوں کا حسن سلوک دیکھا ہے

    اسے زمانے کی بے رحمیوں سے شکوہ ہے

    گزر رہے ہیں شب و روز کتنے بھاری سے

    شباب کاٹ رہی ہے ہزار خواری سے

    خودی کا درس ہے افسانۂ حیات اس کا

    جواب پیدا کرے گی نہ کائنات اس کا

    اسے زمانے کی نیرنگیوں کا ہوش نہیں

    مری نظر میں یہ دیوی ہے گل فروش نہیں

    ستم ظریفیٔ فطرت کو آج شرماؤں

    جو ہار گوندھے ہیں آج اسی کو پہناؤں

    مأخذ :
    • کتاب : Jadeed Shora-e-Urdu (Pg. 1052)
    • Author : Dr. Abdul Wahid
    • مطبع : Feroz sons Printers Publishers and Stationers

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY