ہمارے دکھوں کا علاج کہاں ہے

ابرار احمد

ہمارے دکھوں کا علاج کہاں ہے

ابرار احمد

MORE BYابرار احمد

    اگر ہمارے دکھوں کا علاج

    نیند ہے

    تو کوئی ہم سے زیادہ گہری نیند نہیں سو سکتا

    اور نہ ہی اتنی آسانی اور خوبصورتی سے

    کوئی نیند میں چل سکتا ہے

    اگر ہمارے دکھوں کا علاج

    جاگنا ہے

    تو ہم اس قدر جاگ سکتے ہیں

    کہ ہر رات ہماری آنکھوں میں آرام کر سکتی ہے

    اور ہر دروازہ

    ہمارے دل میں کھل سکتا ہے

    اگر ہمارے دکھوں کا علاج

    ہنسنا ہے

    تو ہم اتنا ہنس سکتے ہیں

    کہ پرندے، درختوں سے اڑ جائیں

    اور پہاڑ ہماری ہنسی کی گونج سے بھر جائیں

    ہم اتنا ہنس سکتے ہیں

    کہ کوئی مسخرہ یا پاگل

    اس کا تصور تک نہیں کر سکتا

    اگر ہمارے دکھوں کا علاج

    رونا ہے

    تو ہمارے پاس اتنے آنسو ہیں

    کہ ان میں ساری دنیا کو ڈبویا جا سکتا ہے

    جہنم بجھائے جا سکتے ہیں

    اور ساری زمین کو پانی دیا جا سکتا ہے

    اگر ہمارے دکھوں کا علاج

    جینا ہے

    تو ہم سے زیادہ با معنی زندگی

    کون گزار سکتا ہے

    اور کون ایسے سلیقے اور اذیت سے

    اس دنیا کو دیکھ سکتا ہے

    اگر ہمارے دکھوں کا علاج

    بولنا ہے

    تو ہم ہوا کی طرح گفتگو کر سکتے ہیں

    اور اپنے لفظوں کی خوشبو سے

    پھول کھلا سکتے ہیں

    اور اگر تم کہتے ہو:

    ہمارے دکھوں کا علاج کہیں نہیں ہے

    تو ہم چپ رہ سکتے ہیں

    قبروں سے بھی زیادہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے