ہنس رہی ہے چاندنی

کیلاش ماہر

ہنس رہی ہے چاندنی

کیلاش ماہر

MORE BYکیلاش ماہر

    فضائیں تلملا اٹھیں جو میں نے گنگنا دیا

    حیات رسمسا گئی جو میں نے مسکرا دیا

    فنا بقا کے درمیاں

    کھینچی ہوئی ہے جو لکیر

    حیات و موت کے سرے پہ ناچتے رہے ہیں ہم

    ادھر تو عشق ہے اداس

    ادھر ہے حسن مضمحل

    ادھر پیالہ تشنہ کام

    ادھر شباب بے قرار

    نہ ہاتھ میں بڑھا سکا نہ تم اٹھا سکے قدم

    فضائیں تلملا اٹھیں

    ندی کی موج موج میں چراغ سے لپک اٹھے

    فنا بقا کے درمیاں

    ستاروں کی سہیلیاں

    سیندور لے کے تھال میں

    سنوارنے کو آ گئیں

    عروس مہ کے پیچ و خم

    نہ ہاتھ میں بڑھا سکا نہ تم بڑھا سکے قدم

    سنور چکا ہے حسن بھی

    بکھر رہی ہے غنچگی

    کھڑے ہوئے ہیں کارواں

    فنا بقا کے درمیاں

    کھینچی ہوئی لکیر مل کے آؤ ہم مٹا نہ دیں

    حدیں جو مستقل سی ہیں وہ راہ سے ہٹا نہ دیں

    بنائیں اک حیات نو نشاط و بے خودی میں ہم

    پھٹے پھٹے سے بادلوں میں

    ہنس رہی ہے چاندنی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY