حویلی موت کی دہلیز پر

عین تابش

حویلی موت کی دہلیز پر

عین تابش

MORE BYعین تابش

    حویلی موت کی دہلیز پر کب سے کھڑی ہے

    چاند نے بجھ کر

    ستاروں نے اداسی اوڑھ کر

    پھولوں نے خوشبو کا لبادہ پھینک کر

    ماحول پس از مرگ کا تیار کر ڈالا ہے

    بس اک آخری ہچکی کے سب ہیں منتظر

    سارے اعزا و اقارب نوحہ خوانی کے لیے

    تیار بیٹھے ہیں

    حویلی موت کی دہلیز پر کب سے کھڑی ہے

    اس کے مرنے میں اگر کچھ دیر باقی ہے

    تو چل کر دوسرے کچھ کام کر ڈالیں

    صدی کا دوسرا عشرہ

    نئے آغاز کے پل پر کھڑا ہو کر

    سمندر کی بپھرتی موج کو للکارتا ہے

    وقت کے غواص

    سیپوں میں گہر کھنگالتے ہیں

    ابن آدم کے قبیلے

    روح مشرق کی پرانی گھاٹیوں سے

    اک اک کر کے نکلتے ہیں

    بخارا و سمرقند ازبکستان و ہرات

    سب پہ چھائی ہے اندھیری سخت رات

    لکھنؤ اور اکبرآباد اپنی شوکت کھو رہے ہیں

    مرحبا شام غریباں

    اب تو چل کر دوسرے کچھ کام کر ڈالیں

    حویلی موت کی دہلیز پر کب سے کھڑی ہے

    مآخذ :
    • کتاب : dasht ajab hairanii ka shayar (Pg. 22)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY