حرص

مجید امجد

حرص

مجید امجد

MORE BY مجید امجد

    INTERESTING FACT

    (سیپ کراچی، شمارہ 25، فروری مارچ)

    اوروں کی کیا کہیے خود میرا دل بھی انگاروں کا مطبخ ہے

    سدا مری آنکھوں میں اک وہ کشش دہکتی ہے جو

    سب کو اپنی جانب کھینچ کر میرے وار کی زد میں لے آتی ہے

    سب کچھ میری طلب کی تشنگیوں کے دہانے پر ہے

    انگاروں کے اس مطبخ میں گرنے کو ہے

    گاڑھا لجز لہو اک وہ کیلوس جو انگاروں کا استحالہ ہے

    اس میرے دل کی کالی قوت ہے میں جس کے پس میں ہوں

    یہ قوت مجھ سے کہتی ہے

    دیکھ مرے انگارے میری تڑپ کا رنگ ہیں اب کچھ تو ان کی خاطر بھی

    اور انگارے اگلتی سانسوں کے ساتھ اب میں

    اس دنیا کے اندر اپنے شکار کی تلاش میں

    اک اک روح کی گھات میں

    اک اک روح کے سامنے سوالی بن کے کھڑا ہوں

    میرے دل میں انگاروں کے دندانے پیہم جڑتے اور کھلتے ہیں

    باہر کسی کرم کی بناوٹ میں ہونٹ ایک اونکھا ٹھہرا ٹھہرا ٹیڑھا زاویہ سا ہیں

    کوئی مجھے اب پہچانے گا

    کس طرح ہنس ہنس کر مجھ سے ملتی ہے دنیا بد بخت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites