Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہجوم ہٹ نہیں رہا

عدنان محسن

ہجوم ہٹ نہیں رہا

عدنان محسن

MORE BYعدنان محسن

    ہجوم جس کی ٹھوکروں کی ضرب سے

    ہوا میں ہانپتا ہوا غبار چھٹ نہیں رہا

    غبار میں جو خاک ہے زمین سے اڑی ہے یا

    کسی کے سرد جسم سے خبر نہیں

    خبر بھی ہو تو کیا بگاڑ لے کوئی

    ہجوم ہٹ نہیں رہا

    ابد کی شاخ سبز پر کھلا ہوا

    شباب کا گلاب پتیوں میں بٹ نہیں رہا

    ہجوم بے سکون ہے سوال مر نہیں رہا

    سوال کا زبان سے جڑا ہوا جو تار ہے

    وہ تار کٹ نہیں رہا

    ہجوم ہٹ نہیں رہا

    وہ مر گیا

    ہجوم اس کی ماں کی بد دعا سے ڈر نہیں رہا

    ہجوم اسے چٹختی پسلیوں کے بل گھسیٹتا چلا گیا

    کسی نے اس کے زخم کو لعاب کا کفن دیا

    کوئی بدن کو لاٹھیوں سے پیٹتا چلا گیا

    قریب چند لوگ عکس بند کر رہے ہیں

    کیمروں میں ایسے کھیل کو

    کہ جس میں سب کھلاڑیوں کی آستیں پہ خون ہے

    ہجوم کو جنون ہے ہجوم ہٹ نہیں رہا

    میں منتظر ہوں اک طرف

    مرے عقب میں چپ کھڑی ہے اک محافظوں کی صف

    ہجوم ہٹ نہیں رہا

    ہجوم سے کہو ہٹے غبار جانے کب چھٹے

    میں اس کے درد سے بھنچے شکستہ ہاتھ کی گرفت سے

    ذرا سی نظم کھینچ لوں

    محافظوں کا ترجماں دعائے خیر میں مگن

    نہیں نہیں وہ پہلے سے رٹا ہوا بیان رٹ نہیں رہا

    مشال خان خیر ہو

    تماشا گاہ سے تو رائیگاں پلٹ نہیں رہا

    ہجوم ہٹ نہیں رہا

    مأخذ :
    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے