ہندوستاں ہمارا

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

ہندوستاں ہمارا

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

MORE BYغوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

    نہ یہ زمیں ہماری نہ آسماں ہمارا

    دوزخ سے کم نہیں ہے جنت نشاں ہمارا

    سننا پڑے گا سب کو اب تو بیاں ہمارا

    ہندوستاں کے ہم ہیں ہندوستاں ہمارا

    جنتا پہ راج کرتی ہے ڈاکوؤں کی ٹولی

    وہ بچ گئے جنوں سے کھیلی تھی خوں کی ہولی

    معصوم شہریوں پہ جس نے چلائی گولی

    وہ سنتری بنا ہے اب پاسباں ہمارا

    غیروں سے ہم نے سیکھا اپنوں کو غیر رکھنا

    ناموس ہی حرم کا نہ پاس دیر رکھنا

    مذہب ہی جب سکھائے آپس میں بیر رکھنا

    باقی رہے گا کیسے نام و نشاں ہمارا

    مقتول کیا بتائے ہے کون اس کا قاتل

    کب جانے ختم ہوگی یہ جنگ حق و باطل

    حب وطن ہمارے ایمان میں ہے شامل

    مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

    روشن ہوئی ہیں شمعیں ہم سے ہی انجمن میں

    غنچے کھلائے ہم نے صحرا میں اور بن میں

    اے باغباں بتا تو اتنے بڑے چمن میں

    کیا حرج ہے رہے گر اک آشیاں ہمارا

    ہم نے بھی خون دے کر سینچا ہے اس چمن کو

    سر سے بندھا ہے اب بھی کھولا نہیں کفن کو

    کہتے ہیں آس کوئی ہم سے نہیں وطن کو

    ہے کوئی دور کر دے وہم و گماں ہمارا

    گو کارواں ہمارا آمادۂ سفر ہے

    رستے میں لٹ نہ جائے ہر شخص کو یہ ڈر ہے

    رہزن بنا ہے رہبر اور راہ پر خطر ہے

    منزل پہ کیسے پہنچے گا کارواں ہمارا

    پگڈنڈیوں پہ چلتے ہیں رہ گزر نہیں ہے

    تنہا ہیں ان کا کوئی بھی ہم سفر نہیں ہے

    ہم شاعروں کو دیکھو رہنے کو گھر نہیں ہے

    لکھتے ہیں شاعری میں سارا جہاں ہمارا

    عزت و آبرو سے جینے کا عزم کر لیں

    اپنے وطن پہ قرباں ہونے کا عزم کر لیں

    موت آ گئی تو ہنس کر مرنے کا عزم کر لیں

    کب تک رہے گا آخر دل ناتواں ہمارا

    جب سے ہوا ہے درہم برہم نظام اپنا

    کوئی نہیں جہاں میں قائم مقام اپنا

    سب کے دلوں میں یارو اب ہے قیام اپنا

    سمجھو ہمیں وہیں اب دل ہے جہاں ہمارا

    جینا یہاں سزا ہے اب اور ہم کہیں کیا

    گندی فضا میں کب تک مر مر کے ہم جئیں کیا

    چین و عرب کو لے کر ہم ؔخواہ مخواہ کریں کیا

    کافی ہے بس رہے گر ہندوستاں ہمارا

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے