آئی ایم بلیو

تبسم ضیا

آئی ایم بلیو

تبسم ضیا

MORE BYتبسم ضیا

    میں تنہا تھا

    کل بھی اور آج بھی

    میں جانتا تھا کہ میں نیلا ہوں

    لیکن تمہاری آواز پر میں باہر نکل آیا

    گورے کالے اور خاکستریوں کے درمیان

    اور اب میں زخمی ہوں

    کاش تم مجھ سے نفرت کرتیں تو میں واپس تنہائی کے تنے میں چھپ جاتا

    جہاں میرے آنسو شاخوں پر اگتے

    اور میں فن کے میٹھے پھل دیتا

    تم نے جب جب آواز دی

    میری تنہائی مجھ سے روٹھ گئی

    اور میں ہر بار کراہتا ہوا لوٹا

    رحم ایک افسانہ ہے

    مجھ پر لکھ ڈالو

    کبھی تو احساس کو انگلیوں پہ گن ڈالو

    میں اپنے غموں اور خوشیوں

    عیدوں اور شب راتوں کی ساتھی

    اپنی دلہن تنہائی کو

    بھیرویں کے کومل سروں کی طرح

    سدا سہاگن رکھوں گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY