التجا

MORE BYعامر عثمانی

    تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو

    اس محفل غم میں آنے کی زحمت نہ اٹھاؤ رہنے دو

    یہ سچ کہ سہانے ماضی کے لمحوں کو بھلانا کھیل نہیں

    یہ سچ کہ بھڑکتے شعلوں سے دامن کو بچانا کھیل نہیں

    رستے ہوئے دل کے زخموں کو دنیا سے چھپانا کھیل نہیں

    اوراق نظر سے جلووں کی تحریر مٹانا کھیل نہیں

    لیکن یہ محبت کے نغمے اس وقت نہ گاؤ رہنے دو

    جو آگ دبی ہے سینے میں ہونٹوں پہ نہ لاؤ رہنے دو

    جاری ہیں وطن کی راہوں میں ہر سمت لہو کے فوارے

    دکھ درد کی چوٹیں کھا کھا کر لرزاں ہیں دلوں کے گہوارے

    انگشت بہ لب ہیں شمس و قمر حیران و پریشاں ہیں تارے

    ہیں باد سحر کے جھونکے بھی طوفان مسلسل کے دھارے

    اب فرصت ناؤ نوش کہاں اب یاد نہ آؤ رہنے دو

    طوفان میں رہنے والوں کو غافل نہ بناؤ رہنے دو

    مانا کہ محبت کی خاطر ہم تم نے قسم بھی کھائی تھی

    یہ امن و سکوں سے دور فضا پیغام سکوں بھی لائی تھی

    وہ دور بھی تھا جب دنیا کی ہر شے پہ جوانی چھائی تھی

    خوابوں کی نشیلی بد مستی معصوم دلوں پر چھائی تھی

    لیکن وہ زمانہ دور گیا اب یاد نہ آؤ رہنے دو

    جس راہ پہ جانا لازم ہے اس سے نہ ہٹاؤ رہنے دو

    اب وقت نہیں ان نغموں کا جو خوابوں کو بیدار کریں

    اب وقت ہے ایسے نعروں کا جو سوتوں کو ہشیار کریں

    دنیا کو ضرورت ہے ان کی جو تلواروں کو پیار کریں

    جو قوم و وطن کے قدموں پر قربانی دیں ایثار کریں

    روداد محبت پھر کہنا اب مان بھی جاؤ رہنے دو

    جادو نہ جگاؤ رہنے دو فتنے نہ اٹھاؤ رہنے دو

    میں زہر حقیقت کی تلخی خوابوں میں چھپاؤں گا کب تک

    غربت کے دہکتے شعلوں سے دامن کو بچاؤں گا کب تک

    آشوب جہاں کی دیوی سے یوں آنکھ چراؤں گا کب تک

    جس فرض کو پورا کرنا ہے وہ فرض بھلاؤں گا کب تک

    اب تاب نہیں نظارے کی جلوے نہ دکھاؤ رہنے دو

    خورشید محبت کے رخ سے پردے نہ اٹھاؤ رہنے دو

    ممکن ہے زمانہ رخ بدلے یہ دور ہلاکت مٹ جائے

    یہ ظلم کی دنیا کروٹ لے یہ عہد ضلالت مٹ جائے

    دولت کے فریبی بندوں کا یہ کبر اور نخوت مٹ جائے

    برباد وطن کے محلوں سے غیروں کی حکومت مٹ جائے

    اس وقت بہ نام عہد وفا میں خود بھی تمہیں یاد آؤں گا

    منہ موڑ کے ساری دنیا سے الفت کا سبق دہراؤں گا

    مأخذ :
    • کتاب : Ye Qadam Qadam Balaen (Pg. 117)
    • Author : Maulana Amir Usmani
    • مطبع : Markazi Maktaba Islami Publishers (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY