التجا

حارث خلیق

التجا

حارث خلیق

MORE BYحارث خلیق

    یہ عورت ہے

    اسے تم سات پردوں میں چھپاؤ

    اسے تم باندھ کر رکھو

    یہ بکری سے زیادہ قیمتی ہے

    کہ بکری دودھ دیتی ہے

    مگر جب کاٹ کر کھا لو

    تو پھر کچھ بھی نہیں رہتا

    یہ عورت ہے اسے کچا چبا لو

    پھر بھی یہ زندہ رہے گی

    اور تمہارے کام آئے گی

    تم اس کے ذہن و دل پر

    اور اس کے جسم کے

    ایک ایک حصے پر

    خلا میں پلنے والے خوف کا

    پہرہ بٹھا دو

    یہ ماں ہو یا بہن

    بیوی ہو محبوبہ ہو بیٹی ہو

    تمہاری خادمہ ہو یا طوائف ہو

    تمہارے کام آئے گی

    میں اک عاصی

    بہت ناچیز بندہ ہوں

    مری اک التجا ہے

    کہ جب اس دن

    گھنی داڑھی کا ایک اک بال گن کر

    تمہیں حوریں ملیں گی

    تو ان حوروں کے صدقے میں

    زمیں پر بسنے والی

    اس حقیر عورت کی سب کمزوریاں

    ساری خطائیں معاف کر دینا

    اسے بھی بخشوا دینا

    مأخذ :
    • کتاب : ishq ki taqweem men (Pg. 214)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY