جنگل میں مور

باصر سلطان کاظمی

جنگل میں مور

باصر سلطان کاظمی

MORE BYباصر سلطان کاظمی

    ایک دن اک مور سے کہنے لگی یہ مورنی

    خوش صدا ہے خوش ادا ہے خوش قدم خوش رنگ ہے

    اس بیاباں تک مگر افسوس تو محدود ہے

    جب کبھی میں دیکھتی ہوں محو تجھ کو رقص میں

    ایک خواہش بے طرح کرتی ہے مجھ کو بے قرار

    کاش تجھ کو دیکھ سکتی آنکھ ہر ذی روح کی

    کاش مخلوق خدا ہو تیرے فن سے فیضیاب

    مور بولا اے مری ہم رقص میری ہم نوا

    تو نہیں واقف کہ میں گھوما پھرا ہوں کس قدر

    کتنے جنگل میں نے جھانکے کتنی دیکھیں بستیاں

    ان گنت آنکھوں نے دیکھا میرا فن میرا ہنر

    داد لینا دیکھنے والوں سے تھا مقصد مرا

    اس طرح گویا انہیں تسخیر کر لیتا تھا میں

    دیکھتا جب ان کی آنکھوں میں ستائش کی چمک

    بس اسی لمحے پروں کو میرے لگ جاتے تھے پر

    پھر ہوا یوں ایک دن دوران رقص

    غالباً شیشے کا ٹکڑا یا کوئی کنکر چبھا

    رقص تو کیا چلنے پھرنے سے ہوا معذور میں

    رفتہ رفتہ ہو گیا اہل جہاں سے دور میں

    بعد مدت ایک دن پہنچا جو میں پنڈال میں

    دیکھتا کیا ہوں کہ اک طاؤس خوش قد خوش جمال

    مجھ سے بہتر اور کتنا مختلف

    کر رہا تھا اپنے فن سے اہل مجلس کو نہال

    دیر تک دیکھا کیا میں اس کو اوروں کی طرح

    یوں لگا جیسے وہ تھا میری جگہ میری طرح

    کاروان زندگی رکتا نہیں

    وقت کا دریا کبھی رکتا نہیں

    آج میں کل کوئی پرسوں کوئی اور

    اپنا اپنا وقت اپنا اپنا دور

    رقص کرتا ہوں اگر میں اب تو بس اپنے لیے

    یا فقط تیرے لیے تیرے لیے تیرے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے