جشن جمہوریت

عرش ملسیانی

جشن جمہوریت

عرش ملسیانی

MORE BYعرش ملسیانی

    جوانیاں ہیں زور پر شباب کا ظہور ہے

    بہ فیض‌‌ قلب‌‌ مطمئن نظر نظر غیور ہے

    امنگ ہے ترنگ ہے نشاط ہے سرور ہے

    نشان ظلمت الم قریب ہے نہ دور ہے

    ہر ایک قمقمہ یہاں چراغ کوہ طور ہے

    ہر اک فضا پہ رنگ ہے ہر ایک سمت نور ہے

    دھری ہوئی ہیں باغ میں ادھر ادھر صراحیاں

    چھلک رہے ہیں جام مے بہ فیض ساقئ جواں

    چلے ہیں بہر مے کشی شیوخ بھی رواں دواں

    زبان برگ گل پہ ہے یہ نعرۂ طرب نشاں

    قصوروار زہد ہے پیے جو بے قصور ہے

    ہر اک فضا پہ رنگ ہے ہر ایک سمت نور ہے

    جھکی ہوئی نگاہ میں ادائے فتنہ پروری

    حیا میں شان تمکنت جمال میں فسوں گری

    نقاب حسن پوش میں نموئے شان دلبری

    حجاب شرم کوش میں غلوئے ناز کافری

    بتوں کا حسن سادہ آج حسن پر غرور ہے

    ہر اک فضا پہ رنگ ہے ہر ایک سمت نور ہے

    اڑیں چمن میں ٹہنیاں پہن کے سبز ساریاں

    چلیں ہوا کے دوش پر شمیم کی سواریاں

    افق سے تا افق گئیں دھنک کی شوخ دھاریاں

    ہوائے تند کی نہیں کہیں بھی ہرزہکاریاں

    وطن کی اس بہار میں جنوں بھی با شعور ہے

    ہر اک فضا پہ رنگ ہے ہر ایک سمت نور ہے

    نسیم صبح باغ میں گلاب کو تھپک گئی

    نگار شاخسار کی نقاب رخ سرک گئی

    ہوائے مشک بار سے کلی کلی چٹک گئی

    ضیاےنو‌ بہار سے کرن کرن دمک گئی

    ضیاے نو بہار ہے کہ برق کوہ طور ہے

    ہر اک فضا پہ رنگ ہے ہر ایک سمت نور ہے

    صباحتوں کی جان ہے ہر ایک روئے خوش نمو

    ملاحتوں کی کان ہے ہر ایک زلف مشکبو

    بہشت و خلد کی عبث تجھے ہے عرش جستجو

    ملک سرشت ہے یہاں ہر ایک مرد خوب رو

    ہر اک زن نظر پسند اپسرا ہے حور ہے

    ہر اک فضا پہ رنگ ہے ہر ایک سمت نور ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY