جھومر

MORE BYاویس احمد دوراں

    سہیلی یوں تو کچھ کچھ سانولے سے ہیں مرے ساجن

    مگر تیری قسم بے حد رسیلے ہیں مرے ساجن

    جو میں کہتی ہوں اس کو مسکرا کر مان جاتے ہیں

    بہت پیارے بڑے ہی بھولے بھالے ہیں مرے ساجن

    میں ان سے پریم کرتی ہوں بھلا میں کیا بتاؤں گی

    سکھی تو بول تجھ کو کیسے لگتے ہیں مرے ساجن

    بظاہر وہ دکھائی دیتے ہیں معصوم دنیا کو

    مگر اندر سے مستانے رنگیلے ہیں مرے ساجن

    نہا دھو کر میں اپنی مانگ جب سندور سے بھرتی ہوں

    تو جانے زیر لب کیوں مسکراتے ہیں مرے ساجن

    کھلے بالوں کی خوشبو دل کو متوالا بناتی ہے

    مرا جوڑا یہ کہہ کر کھول دیتے ہیں مرے ساجن

    چھپا لیتی ہوں چہرہ اس گھڑی میں لاج کے مارے

    مجھے جب سیج پر اپنی بلاتے ہیں مرے ساجن

    نہ مجھ سے دل سنبھلتا ہے نہ آنچل ہی سنبھلتا ہے

    سہانے گیت کیوں راتوں کو گاتے ہیں مرے ساجن

    مجھے پردیس سے ہر بار گہنہ لا کے دیتے ہیں

    سہیلی مجھ سے بے حد پیار کرتے ہیں مرے ساجن

    کئی دن سے مسلسل دیکھتی ہوں ان کو سپنے میں

    پپیہے سچ بتا کیا آنے والے ہیں مرے ساجن

    چمکتا ہے مرے ماتھے پہ جھومر آج کیوں جیسے

    خوشی کا چاند بن کر گھر میں آئے ہیں مرے ساجن

    سویرے سے بہت بے چین ہوں گھبرا رہی ہوں میں

    سکھی پردیس میں کیا جانے کیسے ہیں مرے ساجن

    کوئلیا دل میں تیری کوک اب نشتر چبھوتی ہے

    زمانہ ہو گیا ہے مجھ سے بچھڑے ہیں مرے ساجن

    گھٹا پھر جھوم کر ساون کی آئی مور پھر بولا

    مرے ساجن اب آ جاؤ کہ جھولیں باغ میں جھولا

    مأخذ :
    • کتاب : Lamhon Ki Aawaz (Pg. 170)
    • Author : Owais Ahmad Dauran
    • مطبع : label litho press Ramna Road Patna-4 (1974)
    • اشاعت : 1974

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے