جوش گل

MORE BYنظم طبا طبائی

    وہ موسم ہے کہ خوبان چمن بنتے سنورتے ہیں

    یہ عالم ہے کہ جیسے رنگ تصویروں میں بھرتے ہیں

    ہے خوابیدہ جو سبزہ آئنہ خانے میں شبنم کے

    نفس دزدیدہ باد صبح کے جھونکے گزرتے ہیں

    پر طوطی پہ ہوتا ہے دم طاؤس کا دھوکا

    ہوا سے اڑ کے برگ گل جو سبزہ پر بکھرتے ہیں

    ملا ہے سبزہ نوخیز کو کیا رنگ زنگاری

    ہوا لگنے سے جس کی زخم دل لالہ کے بھرتے ہیں

    شگوفہ ریز ہو کر ڈالیاں مدہوش کرتی ہیں

    کہ میکش جانتے ہیں طاق سے شیشے اترتے ہیں

    نزاکت سے ادا سے جھوم کر کہتی ہے شاخ گل

    یونہی اک جام پی کر رنگ مستوں کے نکھرتے ہیں

    بشاشت کہہ رہی ہے چہرۂ گل کی ادھر دیکھو

    یوں ہی محفل میں ہنس دیتے ہیں پیمانے جو بھرتے ہیں

    چمن کی بڑھ کے شاخیں ابر سے کرتی ہیں گل بازی

    گلوں کی آئنہ داری پر طاؤس کرتے ہیں

    گماں ہوتا ہے کی لشکر کشی باد بہاری نے

    زرہ پوش آب ہو جاتا ہے جب بادل گزرتے ہیں

    دم صبح بہاری ہے رخ خور پر نقاب افگن

    کسی آئینہ پر تار نفس جیسے بکھرتے ہیں

    وہیں جا کر تھمے گا کاروان لالہ و گل بھی

    نسیم صبح کے جھونکے جہاں جا کر ٹھہرتے ہیں

    نہالان چمن کر لیں گے قبضہ سارے عالم پر

    وہاں سے پھر نہیں ہٹتے جہاں پہ پاؤں دھرتے ہیں

    زمیں پر جال پھیلایا ہے کوسوں زلف سنبل نے

    عنادل ان دنوں آتے ہوئے گلشن میں ڈرتے ہیں

    جواب جشن جم ہے گرمئ ہنامۂ گلشن

    کہ لے کر کشتئ مے تخت پریوں کے اترتے ہیں

    عنادل مل چکے ہیں خاک میں جو کیا خبر ان کو

    کہ شاخیں جھومتی ہیں پھول تربت پر بکھرتے ہیں

    مآخذ:

    • کتاب : Jadeed Shora.e Urdu (Pg. 118)
    • Author : Dr. Abdul Vaheed
    • مطبع : Firoz sons Printers Publishers Book sales

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY