کار بیہودہ

شہرام سرمدی

کار بیہودہ

شہرام سرمدی

MORE BYشہرام سرمدی

    اپنے ہونے

    اور نہ ہونے میں

    خوشی کی غم کی اطمینان کی تحقیق

    بے مصرف ہے

    اور اک سعئ لا حاصل کے سوا کچھ بھی نہیں

    یہ زندگی

    اک جنگ تحمیلی ہے

    اور میں

    بے نتیجہ جنگ کا سر باز ہوں کوئی

    جو بیہودہ سوالوں سے

    ازل سے بر سر پیکار

    ابد آثار نا پیدا

    مائل

    تار ابریشم

    وجود

    اک کرم کی مانند

    غائب ہو رہا ہے دم بہ دم

    یہ بھی غنیمت تھا مگر

    ریشم کے خواہاں ہی کہاں باقی

    کبھی یہ سوچتا ہوں میں

    کسی گوشے میں بیٹھوں

    اور رجوع اک مرد کامل سے کروں

    لیکن

    مجھے بھی تو یہ پہلے جاننا ہوگا

    طفل عقل

    کیوں از بلخ تا بہ قونیہ

    یوں خواب میں ڈوبا رہا

    یا پھر

    اسی ایک یاد کو عنوان دے دوں زیست کا

    تو نو دمیدہ وہ کلی

    شامل ہوئی یا کی گئی

    جو زندگی میں

    جس کی خوشبو نے مرے گھر کو مہک سے بھر دیا

    طوطیٔ خوش رنگ و الحاں کی چہک سے بھر دیا

    میں اک محقق بھی رہا ہوں

    ہفت سالہ دورۂ تحقیق کا

    حاصل یہی ہے

    سر بہ زانو دم بخود ہوں

    آخرش صادق ہدایت

    خودکشی سے چاہتا کیا تھا

    نتیجہ صفر ہے

    یہ کار بیہودہ

    یوں ہی ہوتا رہا ہے

    بے سبب ہوتا رہے گا

    مآخذ :
    • کتاب : Na Mau'ud (Pg. 120)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY