کہانی جو ادھوری تھی

عنبرین حسیب عنبر

کہانی جو ادھوری تھی

عنبرین حسیب عنبر

MORE BYعنبرین حسیب عنبر

    یہ کس نے آگ ہوتے روز و شب میں

    مجھ کو ماں کہہ کر پکارا ہے

    کہ جس کی پیار میں ڈوبی ہوئی آواز نے

    ہر آگ کو شبنم بنایا ہے

    کہ اب رتبہ مجھے ماں کا دلایا ہے

    مرے بچے

    میں تیری منتظر

    شاید ازل سے تھی

    ترے ہی واسطے شاید میں جنت چھوڑ کر

    دنیا میں آئی تھی

    کہ اب جو تجھ کو پایا ہے

    مرے جلتے بدن میں مامتا کی چھاؤں اتری ہے

    مرے بچے

    میں اب صحرا نہیں

    ایسا شجر ہوں

    جس کے سائے میں

    فقط تو ہی نہیں

    بے خواب میری زندگی بھی

    بہت آسودگی میں کھو گئی ہے

    کہانی جو ادھوری تھی مکمل ہو گئی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Dil Kay Ufuq Par (Pg. 103)
    • Author : Ambareen Haseeb Amber
    • مطبع : Kitab Market ,Office 17 Urdu Bazar, Karachi, Pakistan (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے