کیف سے خمار تک

محبوب خزاں

کیف سے خمار تک

محبوب خزاں

MORE BYمحبوب خزاں

    وہ حسین تھی مہ جبین تھی

    بے گمان تھی بے یقین تھی

    زندگی کی نرم نرم آہٹیں

    بے سبب یوں ہی مسکراہٹیں

    انگلیوں میں بال کو لپیٹنا

    دامن خیال کو لپیٹنا

    ہر گھڑی وہی ملنے والیاں

    بے خیالیاں خوش خیالیاں

    نرم الجھنیں کم سنی کے خواب

    انگ انگ میں چھیڑا انقلاب

    منہ پر اوڑھنی جی کبھی نہیں

    میں تو آپ سے بولتی نہیں

    اور پھر حیا زندگی کی مار

    معرفت کا بوجھ جبر و اختیار

    ایک جان اور سینکڑوں وبال

    جسم کی دکھن روح کا خیال

    زندگی بڑھی روشنی لیے

    روشنی بڑھی تیرگی لیے

    انکسار میں اک غرور سا

    کچھ خمار سا کچھ سرور سا

    دائرے یہاں دائرے وہاں

    رقص میں نظر رقص میں جہاں

    گفتگو میں بل خامشی میں لوچ

    رات کروٹیں کروٹوں میں سوچ

    دل بجھا بجھا تشنگی کی آنچ

    اجنبی تھکن زندگی کی آنچ

    اس کے کام آئیں اس کا دکھ بٹائیں

    اس کو چھیڑ دیں اور مسکرائیں

    اس کی آنکھ میں کتنا درد ہے

    رنگ زرد ہے روح زرد ہے

    وہ اداس ہے کیوں اداس ہے

    اس کی زندگی کس کے پاس ہے

    یہ گناہ کیوں بھول کیوں نہیں

    باغ میں تمام پھول کیوں نہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY