کیسے

MORE BYاشفاق حسین

    اگر اس زندگی کو

    ایک پھول

    اور ایک خواب

    اور ایک تم ملتے

    تو پھر یہ زندگی کا کینوس رنگوں سے بھر جاتا

    میسر ہے مجھے بھی

    ایک پھول

    اور ایک خواب

    اور ایک تم

    لیکن

    کبھی تم ساتھ ہوتے ہو

    تو پھر وہ پھول

    میری دسترس ہی میں نہیں ہوتا

    کبھی وہ پھول

    میری انگلیوں کی پور کو چھو کر

    ہوا میں رقص کرتا ہے

    تو سارے خواب مجھ سے روٹھ جاتے ہیں

    کبھی روٹھے ہوئے خوابوں سے میں

    ہم رقص ہوتا ہوں

    تو پھر تم

    تتلیوں کے رنگ

    ان کے پنکھ

    اور ان کی سبک پیراہنی سے روٹھ کر

    اپنے بدن پر

    اجنبی بیزار پن کی ایک چادر تان لیتے ہو

    میں کیسے

    تتلیوں کے پیچھے بھاگوں

    اپنے ٹوٹے خواب جوڑوں

    اور پھر

    اس اجنبی بیزار پن کی چادروں کو نوچ ڈالوں

    میں کیسے زندگی کے سارے موسم ساتھ رکھوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY