کھلندڑا

علقمہ شبلی

کھلندڑا

علقمہ شبلی

MORE BYعلقمہ شبلی

    امتحاں کی رات اور میں جھڑکیاں سنتا رہوں

    ہر عنایت ہر کرم کو مسکرا کر میں سہوں

    ہوک سی دل میں اٹھے اور کچھ نہ میں پھر بھی کہوں

    اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں

    بن کے رٹو پاس کر جاؤں مری فطرت نہیں

    امتحاں میں دوستوں سے لوں مدد عادت نہیں

    مہرباں ہوں ماسٹر ایسی مری قسمت نہیں

    اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں

    یہ روپہلی رات اور باغوں میں آموں کی بہار

    کیا کتابوں میں لگے دل اور کیا آئے قرار

    ہائے لیکن اس گھڑی کوئی نہیں راہ فرار

    اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں

    دل یہ کہتا ہے کتابیں چھوڑ اور ڈنڈا اٹھا

    دوستوں کے ساتھ جا کر باغ میں امرود کھا

    کچھ اگر مالی کہے تو قہقہے مل کر لگا

    اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں

    لے کے بستہ ہاتھ میں اسکول جانا ہے غضب

    ماسٹر صاحب سے مولیٰ بخش کھانا ہے غضب

    کالے تختے پر سوالوں کا بنانا ہے غضب

    اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں

    جی میں آتا ہے کہ اب اسکول جانا چھوڑ دوں

    میں ہی بڑھ کر دوستو اب وقت کا رخ موڑ دوں

    یہ نہیں ممکن تو پھر میں اپنا ہی سر توڑ دوں

    اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY