Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خود کشی سے پہلے

اختر پیامی

خود کشی سے پہلے

اختر پیامی

MORE BYاختر پیامی

    زندگی ناچ کہ ہر لمحہ ہے جنت بہ کنار

    دیکھ یہ لب ہیں یہ آنکھیں یہ گلابی رخسار

    پھر نہ آئے گی پلٹ کر تری دنیا میں بہار

    آج کی رات غنیمت ہے چراغاں کر لیں

    ایک انگڑائی جو لی کھل گئیں کالی زلفیں

    پھر مجھے کھینچ رہی ہیں یہ گھنیری پلکیں

    دیکھ ہیجان سے لرزاں ہیں یہ عارض کی رگیں

    آج اس جنس گراں بار کو ارزاں کر لیں

    آج کی رات غنیمت ہے چراغاں کر لیں

    دیکھ وہ ہونٹ ہلے ہاتھ اٹھے ساز بجے

    دیکھ پازیب کی ہر لے پہ ستارے چونکے

    آسمانوں پہ فرشتوں کے وضو ٹوٹ گئے

    آج معصوم خداؤں کو بھی مہماں کر لیں

    آج کی رات غنیمت ہے چراغاں کر لیں

    رات کچھ بھیگ چلی اور جماہی آئی

    جھلملاتی ہوئی شمعوں کی ضیا کانپ گئی

    رکھ دے یہ آتش سیال کہ پھر آگ لگی

    آخری بار ہر اک درد کا درماں کر لیں

    آج کی رات غنیمت ہے چراغاں کر لیں

    کیا غرض وقت کے ماتھے پہ شکن ہے کہ نہیں

    میری محبوب کلائی میں رسن ہے کہ نہیں

    تیرا آنچل ہی شہیدوں کا کفن ہے کہ نہیں

    ہر حقیقت کو اسی خواب میں غلطاں کر لیں

    آج کی رات غنیمت ہے چراغاں کر لیں

    مأخذ :
    • کتاب : Aina Khane (Pg. 190)
    • Author : Akhtar payami
    • مطبع : Zain Publications (2004)
    • اشاعت : 2004
    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے