خدا

گلزار

خدا

گلزار

MORE BYگلزار

    پورے کا پورا آکاش گھما کر بازی دیکھی میں نے!

    کالے گھر میں سورج رکھ کے

    تم نے شاید سوچا تھا میرے سب مہرے پٹ جائیں گے

    میں نے ایک چراغ جلا کر

    اپنا رستہ کھول لیا

    تم نے ایک سمندر ہاتھ میں لے کر مجھ پر ڈھیل دیا

    میں نے نوح کی کشتی کے اوپر رکھ دی

    کال چلا تم نے اور میری جانب دیکھا

    میں نے کال کو توڑ کے لمحہ لمحہ جینا سیکھ لیا

    میری خودی کو تم نے چند چمتکاروں سے مارنا چاہا

    میرے اک پیادے نے تیرا چاند کا مہرہ مار لیا

    موت کو شہ دے کر تم نے سمجھا تھا اب تو مات ہوئی

    میں نے جسم کا خول اتار کے سونپ دیا ۔۔۔اور روح بچا لی!

    پورے کا پورا آکاش گھما کر اب تم دیکھو بازی!!

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    خدا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے