خون کی خوشبو

ستیہ پال آنند

خون کی خوشبو

ستیہ پال آنند

MORE BYستیہ پال آنند

    خون کی خوشبو اڑی تو

    خودکشی چیخی کہ میں ہی زندگی ہوں

    آؤ اب اس وصل کی ساعت کو چومو

    مر گئی تھی جیتے جی میں

    اور تم جینے کی خاطر

    لمحہ لمحہ مر رہے تھے

    خود مسیحا بھی تھے اور بیمار بھی تھے

    (اور خود اپنی جراحت کے لیے تیار بھی تھے)

    آؤ، اب جی بھر کے سونگھو

    خون کی خوشبو کہ میں ہی زندگی ہوں

    میرے ہونٹوں سے پیو آؤ، مجھے باہوں میں لے لو

    وصل کی ساعت یہی ہے

    تم فقط جینے کی کوشش کر رہے تھے

    جاں کنی کے لا شعوری خواب سے لے کر ولادت

    کے شعوری لمحۂ بے دار تک!

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    خون کی خوشبو نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY