لذت غم

عزیز لکھنوی

لذت غم

عزیز لکھنوی

MORE BYعزیز لکھنوی

    گو گلستان جہاں پر میری نظریں کم پڑیں

    اور پڑیں بھی تو خدا شاہد بہ چشم نم پڑیں

    کر رہی تھی فصل گل جب راز قدرت آشکار

    جب اگلتی تھی زمیں گنجینہ ہائے پر بہار

    خون کے آنسو بھرے تھے دیدۂ نمناک میں

    مختلف شکلیں تھیں غم کی چہرۂ غم ناک میں

    فطرتاً دل میں نہ تھا میرے کبھی ارمان عیش

    بند کر لیتا تھا آنکھیں دیکھ کر سامان عیش

    کیا کہوں اے ہم نفس سیر چمن کی داستاں

    گل تھے جب شبنم بکف آنکھیں تھیں جس دن خوں چکاں

    آبشاروں کے مقابل بیٹھ کر رویا ہوں میں

    خار صحرا کے بچھا کر چین سے سویا ہوں میں

    صبح کو جب کروٹیں لیتی تھیں نہریں باغ میں

    کیا کہوں کیسی چمک اٹھتی تھی دل کے داغ میں

    میں نے دیکھی ہیں یہاں تاروں بھری راتیں بہت

    اور کی ہیں فطرت خاموش سے باتیں بہت

    کیا بتاؤں دل میں میرے ایک برچھی سی گڑی

    صبح کو پہلی کرن سورج کی جب مجھ پر پڑی

    میرے نظارے میں مضمر تھا مرا حال تباہ

    آبلہ بن کر ابھر آتی تھی میری ہر نگاہ

    رات کی تاریکیوں میں دل بہلتا تھا کبھی

    پر خطر ویرانیوں میں میں ٹہلتا تھا کبھی

    کیا بتاؤں میں بھڑک اٹھتے تھے کیوں کر دل کے داغ

    جب چمن کرتا تھا روشن تازہ کلیوں کے چراغ

    اشک باری میں بسر دنیا کی راتیں میں نے کیں

    بے کسی میں ایک اک ذرے سے باتیں میں نے کیں

    ڈبڈبا آتی تھیں آنکھیں کوئی ہنستا تھا اگر

    تھی نشاط زندگی میری نظر میں پر خطر

    مآخذ:

    • کتاب : Auraq-e-Aziz (Pg. 98)
    • Author : Aziz Lakhnavi
    • مطبع : Nusrat Publisher Aminabad Lucknow

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY