لندن کی ایک شام

محمد دین تاثیر

لندن کی ایک شام

محمد دین تاثیر

MORE BYمحمد دین تاثیر

    یہ رہ گزر

    یہ زن و مرد کا ہجوم یہ شام

    فراز کوہ سے جس طرح ندیاں سر پر

    لیے ہوئے شفق آلود برف کے پیکر

    سفید جھیل کی آغوش میں سمٹ جائیں

    یہ تند گام سبک سیر کارواں حیات

    ''نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم''

    کدھر سے آئے کدھر جا رہے ہیں کیا معلوم

    سنہری شام

    یہ 'ای روس' جھلملاتا ہوا

    بندھا ہوا ہے نشانہ کھنچی ہوئی ہے کماں

    کسے یہ تیر لگے گا

    کہاں؟ یہاں کہ وہاں!

    نظر نظر سے ملی دل کا کام ختم ہوا

    سنہری شام

    یہ 'ای روس' جگمگاتا ہے

    کوئی ہنسے کوئی روئے یہ مسکراتا ہے

    اسی مقام پہ پھر لوٹ کر میں آیا ہوں

    یہ رہ گزر یہ زن و مرد کا ہجوم یہ شام

    یہ تند سیر سبک گام کاروان حیات

    یہ جوش رنگ یہ طغیان حسن کے جلوے

    یہیں کے نور سے روشن مری نگاہیں ہیں

    مرے شباب کی روندی ہوئی یہ راہیں ہیں

    وہی مقام ہے لیکن وہی مقام نہیں

    یہ شام تو ہے مگر وہ سنہری شام نہیں

    وہ رعب داب نہیں ہے

    وہ دھوم دھام نہیں

    وہ میں نہیں ہوں

    کہ ان کا میں اب غلام نہیں

    صنم کدوں میں اجالے نہیں رہے کہ جو تھے

    کہ اب وہ دیکھنے والے نہیں رہے کہ جو تھے

    مآخذ:

    • کتاب : Nai Nazm ka safar (Pg. 25)
    • Author : Khalilur Rahman Azmi
    • مطبع : NCPUL, New Delhi (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY