مالک رام

عرش ملسیانی

مالک رام

عرش ملسیانی

MORE BYعرش ملسیانی

    صاحب ملک علم مالک رام

    مالک ملک حلم مالک رام

    مولد‌ پاک پھالیہ کی زمیں

    ہیر و رانجھا کی سر زمیں کے قریں

    شہر گجرات میں رہے ہے یہ مقیم

    ارض لاہور میں ہوئی تعلیم

    نیکی و خیر و خلق میں فیاض

    دوستی کے بہت بڑے نباض

    کارواں کارگاہ حکمت کے

    لعل اک معدن محبت کے

    طلبا کے شفیق و یاور ہیں

    بحر تحقیق کے شناور ہیں

    اکمل و افضل و علیم و خطیب

    اکرم و اعظم و شریف و نحیف

    صاحب فقر و بندۂ درویش

    دوستوں کے بڑے عقیدے کیش

    ان کے مسلک میں بے ریائی ہے

    ان کی رندی میں پارسائی ہے

    نثر میں ان کی نظم کی بو باس

    نظم کی انتہا کے رمز‌‌ شناس

    کس قدر آن بان ہے ان کی

    بے نیازانہ شان ہے ان کی

    اب بھی چہرے پہ ہے شباب کا نور

    سربسر علم کی شراب کا نور

    بات کرنے میں پھول جھڑتے ہیں

    کبھی لڑتے نہ یہ جھگڑتے ہیں

    علم کی جستجو پہ جان نثار

    بہر تحقیق روز و شب بیدار

    راہ تحقیق پہ چلے ہیں مدام

    چھان ڈالے عراق و مصر و شام

    جرمنی روس بلجیم لندن

    ہر جگہ دیکھے علم کے معدن

    کارواں علم کا ہے تیز خرام

    اور اس کے امیر مالک رام

    صاحب علم و صاحب اخلاق

    دوستی میں یہ فرد خلق میں طاق

    آشتی اور علم کا اک گنج

    ان سے پہنچا نہیں کسی کو رنج

    رمز داں ہیں یہ فکر غالب کے

    ہیں مصنف یہ ذکر غالب کے

    محترم دوست عرش فرشی کے

    ہیں مرتب یہ نذر عرشی کے

    ہیں بہ ہر رنگ عالموں کے حبیب

    نذر ذاکر انہوں نے دی ترتیب

    عربی فارسی ہو یا اردو

    ان کی باتوں میں سب کی ہے خوشبو

    ان کی تصنیف عورت اور اسلام

    پائے گی دہر میں بقائے دوام

    خوب لکھا تلامذہ کا حال

    خاندان اسد کا حسن مقال

    گل رعنا ہے نسخۂ ارتنگ

    یہ بھی با کیف ہے گل صد رنگ

    برتنا بم کہ ارمغاں بہ‌ دہم

    بس غنیمت کہ قلب و جاں بدہم

    علم را دادہ از نظر تمکیں

    رہنمائے براہ علم و یقیں

    ذہن فرخندہ مغز تابندہ

    باد در شہر علم پایندہ

    رو راز حرص و آز و طمع و ہوس

    نیک خو نیک قلب و نیک نفس

    شہر نا مردمان و ہد آزاد

    بس ہمیں مرد است خوش اطوار

    ملک معنی کا بادشاہ ہے یہ

    شہر انشا کا کج کلاہ ہے یہ

    ختم ہے عرش اب دعا پہ کلام

    یہ رہیں با مراد و شاد مدام

    حسن سیرت کی شمع جلتی رہے

    شاخ امید اور پھلتی رہے

    زندگی کو ملے نشاط تمام

    پر ہمیشہ رہے سرور کا جام

    نور خورشید کی طرح دمکے

    علم و تحقیق کی ضیا چمکے

    علم کی روشنی بڑھاتے رہیں

    ہم کو بھی کچھ نہ کچھ سکھاتے رہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Arsh (Pg. 403)
    • Author : Arsh Malsiyani
    • مطبع : Ali Imran Chaudhary

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY