ماں

بقا بلوچ

ماں

بقا بلوچ

MORE BY بقا بلوچ

    وہ کون ہے جو اداس راتوں کی چاندنی ہیں

    کئی دعائیں لبوں پہ لے کر

    ملول ہو کر

    بھلا کے ساری تھکان دن کی

    یہ سوچتی ہے

    کہ میں نہ جانے ہزار میلوں پرے جو بیٹھا ہوں

    کس طرح ہوں

    وہ کون ہے جو اداس راتوں کے رت جگے میں

    دعاؤں کی مشعلیں جلانے کھڑی ہوئی ہے

    دعائیں جس کی مرے لئے ہیں

    میں ان دعاؤں کے زیر سایہ

    زمین سے آسمان کی جانب یوں محو پرواز ہوں کہ جیسے

    بشر گزیدہ خدا سے ملنے کو جا رہا ہو

    پھر ایک لمحے کو میرے اندر سے اتنی آوازیں گونجتی ہیں

    میں ان سے برسوں سے آشنا ہوں

    یہ ہاتھ جو کہ بلند ہو کر لرز رہے ہیں

    یہ ہاتھ میرے لیے تحفظ کا استعارہ

    یہ ہاتھ میرے لیے جہاں کی

    ہزار خوشبو سے بالاتر ہیں

    یہی تو ہیں وہ جنہوں نے مجھ کو

    قدم اٹھانا قدم بڑھانا سکھا دیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY