میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی

ساحر لدھیانوی

میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی

ساحر لدھیانوی

MORE BYساحر لدھیانوی

    میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی

    مجھ کو راتوں کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملا

    میں وہ نغمہ ہوں جسے پیار کی محفل نہ ملی

    وہ مسافر ہوں جسے کوئی بھی منزل نہ ملی

    زخم پائے ہیں بہاروں کی تمنا کی تھی

    میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی

    کسی گیسو کسی آنچل کا سہارا بھی نہیں

    راستے میں کوئی دھندلا سا ستارہ بھی نہیں

    میری نظروں نے نظاروں کی تمنا کی تھی

    میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی

    دل میں ناکام امیدوں کے بسیرے پائے

    روشنی لینے کو نکلا تو اندھیرے پائے

    رنگ اور نور کے دھاروں کی تمنا کی تھی

    میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی

    میری راہوں سے جدا ہو گئیں راہیں ان کی

    آج بدلی نظر آتی ہیں نگاہیں ان کی

    جن سے اس دل نے سہاروں کی تمنا کی تھی

    میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی

    پیار مانگا تو سسکتے ہوئے ارمان ملے

    چین چاہا تو امڈتے ہوئے طوفان ملے

    ڈوبتے دل نے کناروں کی تمنا کی تھی

    میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی

    مآخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Sahir Ludhianvi (Pg. 419)
    • Author : SAHIR LUDHIANVI
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY