من عرف نفسہ

شمس الرحمن فاروقی

من عرف نفسہ

شمس الرحمن فاروقی

MORE BYشمس الرحمن فاروقی

    روشنی کی ایک ننھی سی لکیر

    میرے کمرے کے اندھیرے کا بدن

    چپکے چپکے ٹٹولتی ہے

    جس طرح حبشی حسینہ کے ڈھلے

    صندل کے سے

    آبنوسی جسم کے اعصاب میں

    تیز سوئی کی اچانک اک چبھن

    سرسراتے سانپ کی مانند دوڑاتی ہے خوں

    جھنجھنا اٹھتے ہیں سارے تار و پو

    اور پھر آہستہ آہستہ کہیں

    زیر سطح جان و دل

    یہ تلاطم

    رک کے سو جاتا ہے

    یعنی

    اژدر آسودہ خاطر کی طرح

    خواب نوشیں کے اڑاتا ہے مزے

    پھر بھی لیکن

    اک غبار انتظار

    میرے کمرے کی فضا میں

    مثل آب سیاہ روشن ہے

    جیسے تاریکی خود اپنی تہ تک

    پہنچنے کو بے چین ہو

    اس لیے

    روشنی کی اس انگشت بے رحم کا

    خیر مقدم کرے

    اژدر آسودہ خاطر کو جگائے

    درد یہ ہے

    میرے کمرے کا اندھیرا کبھی اک بار مسخر نہیں ہو پاتا

    نقش تاریک منور نہیں ہونے پاتا

    کوئی گوشہ

    کبھی روشن

    کہیں گوشہ کوئی

    اجلے کپڑوں کی قطاروں سے لٹکتے ہوئے انجیر کے خوشے

    راکھ کے ڈھیر

    غلاظت کے کنویں

    سونے چاندی کے دمکتے ہوئے پھل

    روشنی

    یا تیز سوئی

    یا تلاطم

    جو بھی ہو تم

    تیرگی کو اس طرح سے منقسم

    تم جو کر دیتے کہ دیواروں کا رنگ

    صاف کھل اٹھتا تو اپنے کو بھی ان میں منعکس میں دیکھ لیتا

    مآخذ:

    • کتاب : Ganj e Sokhta (Pg. 100)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY