Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مجھے کیا کہ وہ میں نہیں تھا

محمود شام

مجھے کیا کہ وہ میں نہیں تھا

محمود شام

MORE BYمحمود شام

    مجھے کیا اگر مجھ سے پہلے

    یہ دھرتی مری پیاری دھرتی فقط اک ہیولیٰ تھی اور زینت طاق نسیاں تھی

    اس کا تصور

    محض دیت کے چند ذرے تھی یا راستے تھے

    یہ وہ لوگ تھے جن کی ساری تگ و دو ہی دھرتی سے ترک تعلق پہ موقوف تھی

    ہواؤں میں ان کے طلسمی محل تھے

    خلا میں لٹکتی تھیں ان کی نگاہوں کی لاشیں

    مجھے کیا اگر وہ

    سبھی اپنے دل کے دماغوں کے آنکھوں کے زخموں کا مرہم ستاروں میں جا ڈھونڈتے تھے

    کبھی چاند کی زرد کرنوں سے جلتے لبوں کی مگر تشنگی کو بجھاتے

    انہیں خبط تھا یہ ہوائیں سکوں آشتی اور الفت کا چشمہ ہیں

    ان کے رواں تند جھونکے ہماری پریشانیوں کا مداوا ہیں

    سورج دماغوں میں کچے خیالوں کی فصلیں پکاتا ہے

    دھرتی تو بس ہم میں احساس بیگانگی پیدا کرتی ہے

    روحیں ہمیشہ ہی اک کرب کی آگ میں جلتی رہتی ہیں

    دھرتی فقط ایک زنداں ہے

    جس سے رہائی کی صورت فلک چاند ستاروں سے منسوب ہونے میں ہے

    مجھے کیا ان کے جینے کا مقصد ہی

    اپنی ہلاکت تھا خود کو بھلانا تھا

    ساری تگ و دو سے مقصود بس خود کشی تھی

    وہ بزدل تھے سب اپنے قاتل تھے اندھے تھے

    ان کی نگاہیں زمین دیکھ سکتی نہیں تھیں

    انہیں خود کا احساس تک بھی نہیں تھا

    وہ سب کچھ تھے لیکن مجھے کیا

    میں ان کے لئے اپنی آنکھوں کو دل کو عبث آنسوؤں میں گھلاؤں

    میں کیوں رات دن ان کے غم میں جلوں

    میں تو ان میں نہیں ہوں

    وہ اندھے تھے قاتل تھے اپنے لئے تھے

    مجھے کیا کہ وہ میں نہیں تھا

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے