نہ جانے کیا ہو

کفیل آزر امروہوی

نہ جانے کیا ہو

کفیل آزر امروہوی

MORE BYکفیل آزر امروہوی

    بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی

    لوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے

    یہ بھی پوچھیں گے کہ تم اتنی پریشاں کیوں ہو

    انگلیاں اٹھیں گی سوکھے ہوئے بالوں کی طرف

    اک نظر دیکھیں گے گزرے ہوئے سالوں کی طرف

    چوڑیوں پر بھی کئی طنز کئے جائیں گے

    کانپتے ہاتھوں پہ فقرے بھی کسے جائیں گے

    لوگ ظالم ہیں ہر اک بات کا طعنہ دیں گے

    باتوں باتوں میں مرا ذکر بھی لے آئیں گے

    ان کی باتوں کا ذرا سا بھی اثر مت لینا

    ورنہ چہرے کے تأثر سے سمجھ جائیں گے

    چاہے کچھ بھی ہو سوالات نہ کرنا ان سے

    میرے بارے میں کوئی بات نہ کرنا ان سے

    بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY