نہ مرنے کا دکھ

عابد ادیب

نہ مرنے کا دکھ

عابد ادیب

MORE BYعابد ادیب

    کوئی میرے لرزتے ہاتھ میں

    کاغذ کا پرزہ اور قلم پکڑا رہا تھا

    کبھی کچھ زیر لب ہی بڑبڑا کر

    کوئی اثبات میں

    آنکھوں کی اور ماتھے کی جنبش چاہتا تھا

    کبھی دانتوں میں ہونٹوں کو دبا کر

    کوئی رونے کی کوشش کر رہا تھا

    کوئی تو چند لمحوں بعد اپنے

    بال بکھرانے گریباں نوچنے کی فکر میں تھا

    کوئی غمگیں چہرہ اور سیاہ ملبوس میں

    بے حد حسیں معلوم دیتا تھا

    میرے اجداد کے ناموں کو گنوا کر

    کوئی مجھ سے تعلق جوڑتا تھا

    سبھی نزدیک تھے میرے

    ادھر بھائی بھتیجے تھے

    ادھر بہنیں تھیں بھانجے تھے

    پھر ان کے بعد

    رشتے جوڑنے والے صف آرا تھے

    یہ لگتا تھا کہ کچھ ہی دیر میں

    ماتم بپا ہوگا

    میں ان باتوں سے

    بستر پر پڑا

    آنکھوں کو تھوڑی سی کھلی رکھ کر

    بڑے دلچسپ موڈ میں تھا

    سبھی غمگین تھے لیکن

    تمنائیں تھیں آنکھوں میں

    یکایک میں نے کروٹ لی

    اور آنکھیں کھول کر اٹھنے کی کوشش کی

    تو دیکھا

    سبھی کے لب پہ مصنوعی ہنسی تھی

    چمک آنکھوں سے غائب تھی

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY