نئے شہروں کی بنیاد

رئیس فروغ

نئے شہروں کی بنیاد

رئیس فروغ

MORE BYرئیس فروغ

    ان کی بارگاہ میں

    جنگل کے شیر

    جاروب کشی کرتے ہیں

    موت نے ان سے وعدہ کیا تھا

    آگ نہیں جلائے گی

    ساتویں نسل تک

    لیکن میں ہوں

    آٹھویں نسل میں

    میں نے ان کی سفید خوشبو کو محسوس کیا ہے

    ان کی دستار کا

    ایک سرا مشرق میں گم ہے

    ایک سرا ایک اور مشرق میں گم ہے

    وہ سورج کے آگے آگے قبا پہن کر چلتے ہیں

    ہم اپنی حدوں میں سمٹے ہوئے

    انہیں دیکھتے ہیں

    اور کہتے ہیں نئے شہروں کی بنیاد وہی رکھتے ہیں

    جو جنگل کے شیروں کو

    جاروب کشی پر مامور کر دیں

    ہم تو

    اپنے گھوڑوں کی گردن پر

    باگ بھی نہیں چھوڑ سکتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY