نیا جنم

زبیر رضوی

نیا جنم

زبیر رضوی

MORE BYزبیر رضوی

    اجنبی جان کے اک شخص نے یوں مجھ سے کہا

    وہ مکاں نیم کا وہ پیڑ کھڑا ہے جس میں

    کھڑکیاں جس کی کئی سال سے لب بستہ ہیں

    جس کے دروازے کی زنجیر کو حسرت ہی رہی

    کوئی آئے تو وہ ہاتھوں میں مچل کے رہ جائے

    شور بے ربطئ آہنگ میں ڈھل کے رہ جائے

    وہ مکاں جس کے در و بام کئی سالوں سے

    منتظر ہیں، کوئی مہتاب صفت شہزادہ

    ان کا ہر گوشۂ تاریک منور کر دے

    لوگ کہتے ہیں یہاں رات کے سناٹے میں

    کچھ عجب طرح کی آوازیں ہوا کرتی ہیں

    چوڑیاں پائلیں پازیبیں بجا کرتی ہیں

    ایک آواز کہ ''تم نے تو مجھے چاہا تھا''

    ایک آواز کہ ''تم عہد وفا بھول گئے''

    ایک سسکی کہ ''مرا ساغر جم ٹوٹ گیا''

    ایک نالہ کہ ''مرا مجھ سے صنم چھوٹ گیا''

    لوگ کہتے ہیں کئی سال ہوئے اس گھر میں

    خوبصورت سا کوئی شخص رہا کرتا تھا

    چاندنی راتوں میں اشعار کہا کرتا تھا

    خوب روؤں نے اسے جان وفا جانا تھا

    جانے کس کس نے اسے اپنا خدا مانا تھا

    لوگ کہتے ہیں کہ اک رات کے سناٹے میں

    اک پری آئی ادھر تخت سلیمانی پر

    جانے کس دیس اڑا لے گئی شہزادے کو

    اجنبی جان کے اس شخص نے یوں مجھ سے کہا

    میں مگر سوچ رہا تھا کہ کوئی پہچان نہ لے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY