نیک دل لڑکیو

عباس اطہر

نیک دل لڑکیو

عباس اطہر

MORE BYعباس اطہر

    نیک دل لڑکیو

    آرزو کی نمائش سے گزرو تو چاروں طرف دیکھنا

    اور پھر جب تمہارے لہو میں کسی کا لہو سرسرائے

    ستاروں میں آنکھیں چھپا کر دعا مانگنا

    قیدیوں شاعروں اور محکوم آبادیوں کے لئے

    اور بیمار بچوں کی ماں کے لئے

    اور پھر نرم ہونٹوں کی حدت سے

    جب چھاتیوں میں ہوا سنسناتی سنو

    نیک دل لڑکیو یاد کرنا انہیں جن کی قیمت بھی لکھے ہوئے دائرے

    ایک سے رات دن اور تنہائیاں ہیں

    ہمارے لئے چاند نکلے نہ نکلے کہ ٹہنیوں سے بچھڑ کے سنبھلنے نہ پائے

    ہواؤں کے کندھوں پہ روتے ہوئے دور ہوتے گئے

    اور جب لوٹنے کی حدوں سے بھی آگے نکل آئے

    پیچھے سے آواز آئی پلٹ آؤ

    ہم نے تمہارے لئے آج آنسو بہائے ہیں

    ہم رات کے میہماں ہیں مگر نیک دل لڑکیو

    آرزو کی نمائش میں چاروں طرف دیکھنا

    اور آنکھوں کی تحریر پڑھنا

    ہماری طرف جب تمہارے سفر کا مسافر ہوا کے ستم سے گزرنے لگے

    اس سے کہنا ٹھہر جاؤ

    میرے لہو میں تمہارے لئے آرزو ہے

    تو اے نیک دل لڑکیو الوداع

    یاد رکھنا ہماری حقیقت سے گزرو تو آنسو بہا کر دعا مانگنا

    قیدیوں شاعروں اور محکوم آبادیوں کے لئے

    اور بیمار بچوں کی ماں کے لئے

    اور اس کے لئے جو تمہارے بدن کا مسافر ہے لیکن

    ہمارے سفر کی شہادت ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY