نورجہاں

MORE BYچندر بھان کیفی دہلوی

    ہر جلوہ جہانگیر تھا جس وقت جواں تھی

    کہتے ہیں جسے نورجہاں نور جہاں تھی

    تھا حور کا ٹکڑا بت طناز کا مکھڑا

    اک شمع تھی فانوس میں جو نور فشاں تھی

    انداز میں شوخی میں کرشمہ میں ادا میں

    تلوار تھی برچھی تھی کٹاری تھی سناں تھی

    رخسار جہاں تاب کی پڑتی تھیں شعاعیں

    یا حسن کے دریا سے کوئی موج رواں تھی

    بجلی تھی چمکتی ہوئی دامان شفق میں

    یا موج تبسم تھی لبوں میں جو نہاں تھی

    گلزار معانی کی چہکتی ہوئی بلبل

    شاعر تھی سخن سنج تھی اعجاز بیاں تھی

    بیتاب ہوا جاتا ہے دل ذکر سے اس کے

    کیا پوچھتے ہو کون تھی وہ اور کہاں تھی

    دنیائے تدبر میں تھی یکتائے زمانہ

    ہاتھ اس کے تھے اور ان میں حکومت کی عناں تھی

    دستور عدالت کے لئے اس کا قلم تھا

    فرمان رعایا کے لئے اس کی زباں تھی

    وہ شمع شب افروز تھی پروانہ جہانگیر

    یہ بات بھی دونوں کی محبت سے عیاں تھی

    لاہور میں دیکھا اسے مدفوں تہ مرقد

    گرد کف پا جس کی کبھی کاہکشاں تھی

    پیوند زمیں ہو گئے اب کون بتائے

    کیفیؔ یہ جہانگیر تھا وہ نورجہاں تھی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY