نورا

اسرار الحق مجاز

نورا

اسرار الحق مجاز

MORE BY اسرار الحق مجاز

    INTERESTING FACT

    نرس کی چارہ گری

    وہ نوخیز نورا وہ اک بنت مریم

    وہ مخمور آنکھیں وہ گیسوئے پر خم

    وہ ارض کلیسا کی اک ماہ پارہ

    وہ دیر و حرم کے لیے اک شرارہ

    وہ فردوس مریم کا اک غنچۂ تر

    وہ تثلیث کی دختر نیک اختر

    وہ اک نرس تھی چارہ گر جس کو کہیے

    مداوائے درد جگر جس کو کہیے

    جوانی سے طفلی گلے مل رہی تھی

    ہوا چل رہی تھی کلی کھل رہی تھی

    وہ پر رعب تیور وہ شاداب چہرہ

    متاع جوانی پہ فطرت کا پہرہ

    مری حکمرانی ہے اہل زمیں پر

    یہ تحریر تھا صاف اس کی جبیں پر

    سفید اور شفاف کپڑے پہن کر

    مرے پاس آتی تھی اک حور بن کر

    وہ اک آسمانی فرشتہ تھی گویا

    کہ انداز تھا اس میں جبریل کا سا

    وہ اک مرمریں حور خلد بریں کی

    وہ تعبیر آذر کے خواب حسیں کی

    وہ تسکین دل تھی سکون نظر تھی

    نگار شفق تھی جمال نظر تھی

    وہ شعلہ وہ بجلی وہ جلوہ وہ پرتو

    سلیماں کی وہ اک کنیز سبک رو

    کبھی اس کی شوخی میں سنجیدگی تھی

    کبھی اس کی سنجیدگی میں بھی شوخی

    گھڑی چپ گھڑی کرنے لگتی تھی باتیں

    سرہانے مرے کاٹ دیتی تھی راتیں

    عجب چیز تھی وہ عجب راز تھی وہ

    کبھی سوز تھی وہ کبھی ساز تھی وہ

    نقاہت کے عالم میں جب آنکھ اٹھتی

    نظر مجھ کو آتی محبت کی دیوی

    وہ اس وقت اک پیکر نور ہوتی

    تخیل کی پرواز سے دور ہوتی

    ہنساتی تھی مجھ کو سلاتی تھی مجھ کو

    دوا اپنے ہاتھوں سے مجھ کو پلاتی

    اب اچھے ہو ہر روز مژدہ سناتی

    سرہانے مرے ایک دن سر جھکائے

    وہ بیٹھی تھی تکیے پہ کہنی ٹکائے

    خیالات پیہم میں کھوئی ہوئی سی

    نہ جاگی ہوئی سی نہ سوئی ہوئی سی

    جھپکتی ہوئی بار بار اس کی پلکیں

    جبیں پر شکن بے قرار اس کی پلکیں

    وہ آنکھوں کے ساغر چھلکتے ہوئے سے

    وہ عارض کے شعلے بھڑکتے ہوئے سے

    لبوں میں تھا لعل و گہر کا خزانہ

    نظر عارفانہ ادا راہبانہ

    مہک گیسوؤں سے چلی آ رہی تھی

    مرے ہر نفس میں بسی جا رہی تھی

    مجھے لیٹے لیٹے شرارت کی سوجھی

    جو سوجھی بھی تو کس قیامت کی سوجھی

    ذرا بڑھ کے کچھ اور گردن جھکا لی

    لب لعل افشاں سے اک شے چرا لی

    وہ شے جس کو اب کیا کہوں کیا سمجھیے

    بہشت جوانی کا تحفہ سمجھیے

    شراب محبت کا اک جام رنگیں

    سبو زار فطرت کا اک جام رنگیں

    میں سمجھا تھا شاید بگڑ جائے گی وہ

    ہواؤں سے لڑتی ہے لڑ جائے گی وہ

    میں دیکھوں گا اس کے بپھرنے کا عالم

    جوانی کا غصہ بکھرنے کا عالم

    ادھر دل میں اک شور محشر بپا تھا

    مگر اس طرف رنگ ہی دوسرا تھا

    ہنسی اور ہنسی اس طرح کھلکھلا کر

    کہ شمع حیا رہ گئی جھلملا کر

    نہیں جانتی ہے مرا نام تک وہ

    مگر بھیج دیتی ہے پیغام تک وہ

    یہ پیغام آتے ہی رہتے ہیں اکثر

    کہ کس روز آؤ گے بیمار ہو کر

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    مآخذ:

    • Book : Kulliyaat-e-Majaz (Pg. 114)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY