پہلے تو شہر ایسا نہ تھا

عین تابش

پہلے تو شہر ایسا نہ تھا

عین تابش

MORE BYعین تابش

    اک بار چل کر دیکھ لیں

    شاید گزشتہ موسموں کا کوئی اک

    دھندلا نشاں مل جائے

    اور پھر سے فضا شاداب ہو

    اجڑا ہوا اک خواب ہو

    تصویر میں کچھ گرد باد باقیات منبر و محراب ہو

    اک بار چل کر دیکھ لیں

    پھر بند ہوتے شہر کے بازار کو

    جھانکیں ذرا

    اجڑی دکانوں میں

    کلاہ و جبہ و دستار کو

    اک شہر تازہ کار کو کچھ دیر بھولیں

    اور اس کو سلوٹوں میں

    ڈھونڈیں اک کھوئی ہوئی تصویر کو

    تصویر میں کچھ باقیات منبر و محراب ہیں

    کچھ جلوہ ہائے عہد عالم تاب ہیں

    وہ لاش جو کچلی گئی

    وہ خواب جو روندے گئے

    وہ نام جو بھولے گئے

    ان سلوٹوں میں دفن

    کتنی برکتوں کے راز ہیں

    اک بار چل کر دیکھ لیں

    پہلے تو شہر ایسا نہ تھا

    مأخذ :
    • کتاب : dasht ajab hairanii ka shayar (Pg. 69)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY