پھولوں کی بہار

امیر اورنگ آبادی

پھولوں کی بہار

امیر اورنگ آبادی

MORE BYامیر اورنگ آبادی

    چلتے چلتے تھک گیا ہوں کلفتوں سے چور ہوں

    چین سے محروم ہوں آرام سے میں دور ہوں

    باغ میں آنے دے مالی ہے قسم گل کی تجھے

    دے رہی ہے ڈالی ڈالی دید کی دعوت مجھے

    پھول کھلتے ہیں بسنتی نشہ آور ہے فضا

    گود میں اپنے جھلاتی ہے انہیں باد صبا

    باغ کی آنکھیں ہیں یہ یا ہیں ستارے ضو فشاں

    چھوٹتے ہیں رنگ و بو کے گویا فوارے یہاں

    رنگتیں دیکھوں گا ان کی اور لوٹوں گا بہار

    لوگ جاتے ہیں ادھر سے پر نہیں کرتے نظر

    پھول کیا کیا ہیں کھلے ہوتی نہیں ان کو خبر

    کام میں بھولے ہوئے ہیں سارے دنیا کے مزے

    دل ہی دل میں گھٹ کے رہ جاتے ہیں ان کے حوصلے

    پر میں کھیلوں گا گلوں سے اور لوٹوں گا بہار

    ان کے حسن روح پرور سے سکوں پاتا ہے دل

    جانے کیا چپکے ہی چپکے مجھ سے کہہ جاتا ہے دل

    کس سے پیارے کی دلاتے ہیں یہ مجھ کو یاد اب

    اور مجھے اپنا سمجھ کر میں بلاتے سب کے سب

    غم بھلا دوں گا میں ان میں اور لوٹوں گا بہار

    شاخ پر غنچے کھلیں گے اور کمھلا جائیں گے

    ہنس ہنسا کر اک گھڑی کے بعد مرجھا جائیں گے

    زندگی میں موت کا کیوں غم کریں کیوں دکھ یہیں

    اس ریاض دہر میں جب تک رہیں ہنستے رہیں

    ان سے سیکھوں گا میں ہنسنا اور لوٹوں گا بہار

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے