پرانے ساحلوں پر نیا گیت

سلیم کوثر

پرانے ساحلوں پر نیا گیت

سلیم کوثر

MORE BYسلیم کوثر

    سمندر چاندنی میں رقص کرتا ہے

    پرندے بادلوں میں چھپ کے کیسے گنگناتے ہیں

    زمیں کے بھید جیسے چاند تاروں کو بتاتے ہیں

    ہوا سرگوشیوں کے جال بنتی ہے

    تمہیں فرصت ملے تو دیکھنا

    لہروں میں اک کشتی ہے

    اور کشتی میں اک تنہا مسافر ہے

    مسافر کے لبوں پر واپسی کے گیت

    لہروں کی سبک گامی میں ڈھلتے

    داستاں کہتے

    جزیروں میں کہیں بہتے

    پرانے ساحلوں پر گونجتے رہتے

    کسی مانجھی کے نغموں سے گلے مل کر پلٹتے ہیں

    تمہاری یاد کا صفحہ الٹتے ہیں

    ابھی کچھ رات باقی ہے

    تمہارا اور میرا ساتھ باقی ہے

    اندھیروں میں چھپا اک روشنی کا ہاتھ باقی ہے

    چلے آنا

    کہ ہم اس آنے والی صبح کو اک ساتھ دیکھیں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY