پرانی فائلوں میں گنگناتی شام

عین تابش

پرانی فائلوں میں گنگناتی شام

عین تابش

MORE BYعین تابش

    اب ان بوسیدہ کاغذ کے پلندوں کی

    ضرورت کیا بچی ہے

    ان لفافوں پر پتے سارے

    پرانے ہو چکے ہیں

    ان کو رکھنا کس لیے

    بے رنگ تحریروں میں ڈوبے

    ان خطوں کی کیوں حفاظت چاہئے

    یہ پرانی فائلیں ضائع اگر ہو جائیں

    تو نقصان کیا ہے

    ہاتھ کیوں رکتے ہیں

    ان کاغذ کے ٹکڑوں کو جلانے میں

    اب ان کی معنویت کیا بچی ہے

    اتنے ماہ و سال کے بعد

    اس زمانے میں

    مہک کیسی ہے ان میں

    یا جو خوشبو سی لپکتی ہے

    تو کیا ہے یہ رتوں کا خرخشہ اب کوئی رت ہوگی کہ جس نے

    کاغذوں پر چھوڑ رکھا ہے اثر

    برسوں گزرتے ہیں

    نہیں، کچھ بھی نہیں یاد آتا ہے

    لیکن یہ میرے ہاتھ ان کو چھوتے ہی

    کیوں کانپنے لگتے ہیں

    پہلے بھی تو بوسیدہ بہت کاغذ جلائے ہیں

    نہ جانے ان پرانی فائلوں پر

    کون سے گزرے ہوئے

    لمحوں کے سائے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : dasht ajab hairanii ka shayar (Pg. 77)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY