قصہ گل بادشاہ کا

زہرا نگاہ

قصہ گل بادشاہ کا

زہرا نگاہ

MORE BY زہرا نگاہ

    نام میرا ہے گل بادشاہ

    عمر میری ہے تیرہ برس

    اور کہانی

    میری عمر کی طرح سے منتشر منتشر

    مختصر مختصر

    میری بے نام بے چہرہ ماں

    بے دوا مر گئی

    باپ نے اس کو برقعے میں دفنا دیا

    اس کو ڈر تھا کہ منکر نکیر

    میری اماں کا چہرہ نہ دیکھیں

    ویسے زندہ تھی، جب بھی وہ مدفون تھی

    باپ کا نام زر تاج گل

    عمر بتیس برس

    وہ مجاہد شہادت کا طالب راہ حق کا مسافر ہوا

    اور جام شہادت بھی اس نے

    اپنے بھائی کے ہاتھوں پیا

    جو شمالی مجاہد تھا

    اور پنج وقتہ نمازی بھی تھا

    مسئلہ اس شہادت کا پیچیدہ ہے

    اس کو بہتر یہی ہے یہیں چھوڑ دیں

    اب بہرحال بابا تو جنت میں ہے

    اس کے ہاتھوں میں جام طہور

    اس کی بانہوں میں حور و قصور

    میری تقدیر میں بم دھماکے دھواں

    پگھلتی ہوئی یہ زمین

    بکھرتا ہوا آسماں

    بعد از مرگ وہ زندہ ہے

    زندگی مجھ سے شرمندہ ہے

    (۲)

    کل سر شام دشمن نے آتے ہوئے

    بم کے ہم راہ برسا دیے

    مجھ پہ کچھ پیلے تھیلے

    جن سے مجھ کو ملے

    گول روٹی کے ٹکڑے

    ایک مکھن کی ٹکیا

    ایک شربت کی بوتل

    مربے کا ڈبا

    اس کے بدلے میں وہ لے گئے

    میرے بھائی کا دست مشقت

    جس میں منت کا ڈورا بندھا تھا

    میری چھوٹی بہن کا وہ پاؤں

    جس سے رنگ حنا پھوٹتا تھا

    لوگ کہتے ہیں یہ امن کی جنگ ہے

    امن کی جنگ میں حملہ آور

    صرف بچوں کو بے دست و پا چھوڑتے ہیں

    ان کو بھوکا نہیں چھوڑتے

    آخر انسانیت بھی کوئی چیز ہے

    میں دہکتے پہاڑوں میں تنہا

    اپنے ترکے کی بندوق تھامے کھڑا ہوں

    تماشائے اہل کرم دیکھتا تھا

    تماشائے اہل کرم دیکھتا ہوں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    جاوید اختر

    جاوید اختر

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    جاوید اختر

    جاوید اختر

    زہرا نگاہ

    زہرا نگاہ

    عذرا نقوی

    قصہ گل بادشاہ کا عذرا نقوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY