راہ گزر

شمیم کرہانی

راہ گزر

شمیم کرہانی

MORE BYشمیم کرہانی

    (تھرتھراتا ہوا احساس کے غم خانے میں

    نرگسی آنکھوں کا معصوم سا شکوا دن رات

    زیست کے ساتھ رہا کرتا ہے سائے کی طرح

    چند اترے ہوئے چہروں کا تقاضا دن رات)

    شام ہوتی ہے تو روتی ہیں ننداسی آنکھیں

    لوریاں روٹھ گئیں پیار بھری بات گئی

    صبح آتی ہے تو کہتی ہیں نگاہیں اٹھ کر

    کس لیے دن کا اجالا ہوا کیوں رات گئی)

    (روشنی لائے جو کوئی تو کہاں سے لائے

    شام غم بھول گئی صبح خوشی کا رستہ

    کھوئی کھوئی سی نگاہوں میں چمک ہے پھر بھی

    اب بھی تکتا ہے کوئی جیسے کسی کا رستہ

    پاؤں کانٹوں میں ہیں تاروں پہ نظر ہے اے دوست)

    مآخذ :
    • کتاب : aazaadii ke baad delhi men urdu nazm (Pg. 189)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY