رات شہر اور اس کے بچے

شمس الرحمن فاروقی

رات شہر اور اس کے بچے

شمس الرحمن فاروقی

MORE BYشمس الرحمن فاروقی

    سرد میدانوں پہ شبنم سخت

    سکڑی شاہ راہوں منجمد گلیوں پہ

    جالا نیند کا

    مصروف لوگوں بے ارادہ گھومتے آوارہ

    کا ہجوم بے دماغ اب تھم گیا ہے

    رنڈیوں زنخوں اچکوں جیب کتروں لوطیوں

    کی فوج استعمال کردہ جسم کے مانند ڈھیلی

    پڑ گئی ہے

    سنسناتی روشنی ہواؤں کی پھسلتی

    گود میں چپ

    اونگھتی ہے فرش اور دیوار و در

    فٹ پاتھ

    کھمبے

    دھندلی محرابیں

    دکانوں کے سیہ ویران زینے

    سب کے ننگے جسم میں شب

    نم ہوا کی سوئیاں بے خوف

    اترتی کودتی دھومیں مچاتی ہیں

    کچھ شکستہ تختوں کے پیچھے کئی

    معصوم جانیں ہیں

    خواب کم خوابی میں لرزاں

    بال و پر میں سرد نشتر

    بانس کی ہلکی اکہری بے حفاظت

    ٹوکری میں

    درجنوں مجبور طائر

    زیر پر منقار منہ ڈھانپے خموشی کے سمندر بے نشاں میں

    غرق بازو بستہ چپ

    مخلوق خدا جو گول کالی گہری آنکھوں کے

    نہ جانے کون سے منظر میں گم ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY