رقص

MORE BYن م راشد

    اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے

    زندگی سے بھاگ کر آیا ہوں میں

    ڈر سے لرزا ہوں کہیں ایسا نہ ہو

    رقص گہ کے چور دروازے سے آ کر زندگی

    ڈھونڈ لے مجھ کو، نشاں پا لے مرا

    اور جرم عیش کرتے دیکھ لے!

    اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے

    رقص کی یہ گردشیں

    ایک مبہم آسیا کے دور ہیں

    کیسی سرگرمی سے غم کو روندتا جاتا ہوں میں!

    جی میں کہتا ہوں کہ ہاں،

    رقص گہ میں زندگی کے جھانکنے سے پیشتر

    کلفتوں کا سنگ ریزہ ایک بھی رہنے نہ پائے!

    اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے

    زندگی میرے لیے

    ایک خونیں بھیڑیے سے کم نہیں

    اے حسین و اجنبی عورت اسی کے ڈر سے میں

    ہو رہا ہوں لمحہ لمحہ اور بھی تیرے قریب

    جانتا ہوں تو مری جاں بھی نہیں

    تجھ سے ملنے کا پھر امکاں بھی نہیں

    تو مری ان آرزؤں کی مگر تمثیل ہے

    جو رہیں مجھ سے گریزاں آج تک!

    اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے

    عہد پارینہ کا میں انساں نہیں

    بندگی سے اس در و دیوار کی

    ہو چکی ہیں خواہشیں بے سوز و رنگ و ناتواں

    جسم سے تیرے لپٹ سکتا تو ہوں

    زندگی پر میں جھپٹ سکتا نہیں!

    اس لیے اب تھام لے

    اے حسین و اجنبی عورت مجھے اب تھام لے!

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    رقص نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY