Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

روح تغزل

MORE BYلالہ انوپ چند آفتاب پانی پتی

    میں اپنے قلب میں جب نور عرفاں دیکھ لیتا ہوں

    تو ہر ذرہ میں اک خورشید تاباں دیکھ لیتا ہوں

    مٹا کر اپنی ہستی راہ حق میں کھل گئیں آنکھیں

    کہ مر کر زندگی کا راز پنہاں دیکھ لیتا ہوں

    حقیقی عشق کا جذبہ ہے دل میں جس کی برکت سے

    حیات اور موت کے اسرار عریاں دیکھ لیتا ہوں

    کئے ہیں عشق اور الفت کے سارے مرحلے جب طے

    تو دنیا بھر کی ہر مشکل کو آساں دیکھ لیتا ہوں

    چھپا سکتا نہیں تو خود کو مجھ سے لاکھ پردوں میں

    تری صورت ہر اک شے میں نمایاں دیکھ لیتا ہوں

    کہانی کیا سناؤں دل جلوں کی غم کے ماروں کی

    کہ اٹھتا چار سو اک غم کا طوفاں دیکھ لیتا ہوں

    تڑپ ہے درد ہے رنج و الم ہے بے قراری ہے

    یہ ملک اور قوم کا حال پریشاں دیکھ لیتا ہوں

    اسی پیارے وطن ہندوستاں کی غیر حالت ہے

    کہ جس پر غیر کو بھی آج نازاں دیکھ لیتا ہوں

    نکلتی ہے اگر اک آہ بھی مظلوم کے دل سے

    زمیں سے عرش تک ہر شے کو لرزاں دیکھ لیتا ہوں

    گھٹائیں غم کی سر پر چھا گئیں جو ہند والوں کے

    در و دیوار کو بھارت کے گریاں دیکھ لیتا ہوں

    ابھی ہندوستاں کے دن بھلے آئے نہیں شاید

    کہ میں لڑتے ہوئے ہندو مسلماں دیکھ لیتا ہوں

    نہ کیوں اے آفتابؔ آئے نظر امید کی صورت

    کہ جب تکلیف میں راحت کے ساماں دیکھ لیتا ہوں

    مأخذ :
    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے