سال کی آخری شب

سلیم کوثر

سال کی آخری شب

سلیم کوثر

MORE BYسلیم کوثر

    سال کی آخری شب

    میرے کمرے میں کتابوں کا ہجوم

    پچھلی راتوں کو تراشے ہوئے کچھ ماہ و نجوم

    میں اکیلا مرے اطراف علوم

    ایک تصویر پہ بنتے ہوئے میرے خد و خال

    ان پہ جمتی ہوئی گرد مہ و سال

    اک ہیولیٰ سا پس شہر غبار

    اور مجھے جکڑے ہوئے خود مری باہوں کے حصار

    کوئی روزن ہے نہ در

    سو گئے اہل خبر

    سال کی آخری شب

    نہ کسی ہجر کا صدمہ نہ کسی وصل کا خواب

    خم ہونے کو ہے بس آخری لمحے کا شباب

    اور افق پار دھندلکوں سے کہیں

    کھلنے والا ہے نئی صبح کا باب

    اس نئی صبح کو کیا نذر کروں

    ہر طرف پھیلا ہوا تیز ہواؤں کا فسوں

    اور میں سوچتا ہوں

    در و دیوار میں لپٹے ہوئے سہمے ہوئے لوگ

    گلی کوچوں میں نکلتے ہوئے گھبراتے ہوئے

    میں انہیں کیسے بتاؤں کہ یہی موسم ہے

    جب پرندوں کے پر و بال نکل آتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY