سانجھ بھئی پردیس

ادا جعفری

سانجھ بھئی پردیس

ادا جعفری

MORE BYادا جعفری

    بے کواڑ دروازے

    راہ دیکھتے ہوں گے

    طاق بے چراغوں کے

    اک کرن اجالے کی

    بھیک مانگتے ہوں گے

    کیوں جھجک گئے راہی

    کیوں ٹھٹک گئے راہی

    ڈھونڈنے کسے جاؤ

    انتظار کس کا ہو

    راستے میں کچھ ساتھی

    رہ بدل بھی جاتے ہیں

    پھر کبھی نہ ملنے کو

    کچھ بچھڑ بھی جاتے ہیں

    قافلہ کبھی ٹھہرا

    قافلہ کہاں ٹھہرا

    راہ کیوں کرے کھوٹی

    کس کا آسرا دیکھے

    چند کانچ کے ٹکڑے

    اک بلور کی گولی

    ننھے منے ہاتھوں کا

    جن پہ لمس باقی ہے

    زاد راہ کافی ہے

    خشک ہو چکے گجرے

    کس گلے میں ڈالو گی

    بھولی بھٹکی خوشبوؤ

    کس کی راہ روکو گی

    کس نے اشک پونچھے ہیں

    کس نے ہاتھ تھاما ہے

    اپنا راستہ ناپو

    بے کواڑ دروازے

    راہ دیکھتے ہوں گے

    کل نئی سحر ہوگی

    لاج سے بھری کلیاں

    کل بھی مسکرائیں گی

    کل کوئی نئی گوری

    ادھ کھلی نئی کلیاں

    ہار میں پروئے گی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY