صدمہ

MORE BYچندر بھان خیال

    بستی کی بیمار گلی میں

    شہنائی جب جب گونجی ہے

    ماں نے اکثر مجھ سے کہا ہے

    تم بھی اپنا بیاہ رچا لو

    میں گھر کے کونے میں بیٹھا

    شور سن رہا ہوں شہروں کا

    گھائل ندیوں کی لہروں کا

    پربت پر بیٹھا اک جوگی

    اپنی آنکھیں بند کیے مجھ پر ہنستا ہے

    اور وہ مستقبل کی عورت

    کبھی سراسر زہر اگلتی

    کبھی انوکھا زہر نگلتی

    پیٹ رہی ہے چاٹ رہی ہے چھاتی میری

    دریا جنگل پربت صحرا

    شور ہے کتنا اندر باہر

    پل پل جیسے کوڑے لگا رہی ہے خواہش

    صدیوں کے پیاسے نیزے پیوست ہوئے پھر

    سوکھی اور بے رنگ رگوں میں

    خون کے اک قطرے کی خاطر

    صدیوں کی راہیں طے کرنا

    کوئی مشکل کام نہیں ہے

    بحر کشاکش کے ساحل پر

    راحت پتھر توڑ رہی ہے

    موج تمنا چٹانوں سے اپنا ماتھا پھوڑ رہی ہے

    میں گھر کے کونے میں بیٹھا

    شور سن رہا ہوں ممتا کا

    ہاں اب میں سوچ رہا ہوں

    ایسا کوئی راس رچاؤں

    اماں کی بوڑھی چھاتی پر

    ایک نیا صدمہ بن جاؤں

    مأخذ :
    • کتاب : Shoalon Ka Shajar (Pg. 85)
    • Author : Chander Bhan Khayal
    • مطبع : Sutoor Parkashan (1969)
    • اشاعت : 1969

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے